معلوم ہوا ہے کہ وزیر داخلہ رحمن ملک نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کولکھے گئے ایک خط میں ان سے کہا ہے کہ چونکہ دہشت گرد اور انتہا پسند قو تیں سابق صدر کی جان کے درپے ہیں، ملک میں خودکش دھماکوں اور دیگر سیکیورٹی کے خدشات کے باعث حکومت انکی جان کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی لہذا وطن واپس آنے کی بجائے بیرون ملک ہی میں قیام کو بڑھایا جائے۔ واضح رہے کہ سابق صدر مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف نے یکم اکتوبر کو لندن میں آل پاکستان مسلم لیگ کے قیام کا باضابطہ اعلان پریس کانفرنس میں کرنے‘ 2 اکتوبر کو پارٹی کنونشن اور 3 اکتوبر کو برمنگھم میں پارٹی کا پہلا جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں وطن واپسی کا اعلان متوقع کیا جا رہا ہے تاہم حکومت نے سابق صدر مملکت کو خط میں وطن واپس نہ آنے کا مشورہ دیا ہے اور قوی امکان ہے کہ سابق صدر مملکت موجودہ حالات میں وطن واپس آنے کی بجائے برطانیہ میں بیٹھ کر آل پاکستان مسلم لیگ کی قیادت کریں گے اور آئندہ عام انتخابات کے موقع پر وطن واپس آئیں گے۔
......
/110